09:08 , 4 مئی 2026
Watch Live

نیب چیئرمین کی تقرری کے عمل پر نظرِ ثانی

نیب چیئرمین کی تقرری کا طریقہ کار

اسلام آباد: پاکستان نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ طرزِ حکمرانی اور شفافیت بہتر بنانے کے لیے ایک جامع منصوبہ شیئر کر دیا ہے، جس میں نیب چیئرمین کی تقرری کا طریقہ کار پر نظرِ ثانی بھی شامل ہے۔ حکومت کے مطابق قومی احتساب بیورو کے سربراہ کی تقرری کے عمل کا باقاعدہ جائزہ لے کر اسے وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ اعلیٰ وفاقی افسران کے اثاثوں کی تفصیلات 2026 میں منظرِ عام پر لانے اور خطرات کی بنیاد پر جانچ کا نیا نظام متعارف کرانے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔

مالیاتی فنڈ کا جائزہ وفد 25 فروری سے 11 مارچ 2026 تک پاکستان کا دورہ کرے گا تاکہ سات ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ سہولت پروگرام اور ایک اعشاریہ چار ارب ڈالر کی پائیدار ترقی سہولت کے تحت پیش رفت کا جائزہ لیا جا سکے۔ اس دوران بدعنوانی کے خلاف اقدامات اور اہم اداروں کے سربراہان کی تقرری کا نظام خاص طور پر زیر غور آئے گا۔

حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ مسابقتی کمیشن آف پاکستان اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان سمیت اہم نگرانی کرنے والے اداروں کے سربراہان کی تقرری کے قانونی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔ مقصد یہ ہے کہ تقرریاں مکمل طور پر میرٹ اور شفاف اصولوں کے تحت ہوں۔ ان اقدامات کو 27 جون تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: کاروباری شعبوں کو ایف بی آر سے منسلک کرنے کا حکم

سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کے چیئرمین کی تقرری کے لیے مجوزہ ترمیم میں ایک انتخابی کمیٹی بنانے کی تجویز دی گئی ہے، جو امیدواروں کی جانچ پڑتال کے بعد سفارش پیش کرے گی۔ اسی طرح چیئرمین، ارکان اور پالیسی بورڈ کے اراکین کی تقرری کا مکمل طریقہ کار باقاعدہ قواعد کے ذریعے طے کیا جائے گا، اور مدت پوری ہونے سے کم از کم تین ماہ پہلے نیا عمل شروع کیا جائے گا۔ سالانہ نظم و نسق اور شفافیت کی رپورٹ بھی جاری کی جائے گی۔

حکومت نے واضح کیا ہے کہ باضابطہ جائزہ مکمل ہونے کے بعد اگر ضرورت پڑی تو نیب چیئرمین کی تقرری کا طریقہ کار مزید بہتر بنایا جائے گا تاکہ قومی احتساب بیورو کی ساکھ مضبوط ہو اور عوام کا اعتماد بحال ہو۔ ان اصلاحات کا مقصد احتساب کے نظام کو مؤثر، شفاف اور مستحکم بنانا ہے۔

متعلقہ خبریں
اہم خبریں۔
ضرور دیکھیں
INNOVATION